ادھوری محبت اور دسمبر

دسمبر شروع ہو چکا تھا۔ حسب معمول میں آفس کے لیے نکلا توگھر سے ایک دو گلیاں چھوڑ کر راستے میں ایک خوبرو حسینہ نظر آئی جو پودوں کو پانی دے رہی تھی پتلی کمر گوری سی رنگت معصوم سا پھول جیسا چہرہ میں روزانہ اسی راستے سے گزرتا تھا لیکن اتنا حیسن اتفاق آج پہلی دفعہ ہوا تھا۔شائد یہ لوگ نئے شفٹ ہوے تھے ادھر۔آفس میں سارا دن صبح کا منظر ہی میرے عصاب پر سوار رہا۔ گھر واپس آتے ہی اسی گھر کے سامنے سے گزرا تو لائٹیں جل رہی تھی اور دو گاڑیاں بھی باہر کھڑی تھی۔میں روزانہ شام کو جاگنگ کے لیے نکلتا تھا۔آج جاگنگ کی بجائے اسی گھر کی طرف رخ کیا۔شائد وہ پھر نظر آ جائے۔کچھ دیر بعد گیٹ کھلا پھر وہی حسین منظر اس کے ٹریک سوٹ سے لگ رہا تھا شائد وہ بھی کسی جگہ جاگنگ یا جم وغیرہ کے لیے جا رہی ہے

اس نے ایک دم میری طرف دیکھا اور مینے دھیان دوسری طرف کر لیا۔خیر مینے ٹائم نوٹ کیا تو اگلے دن سیم ٹائم پر میں بھی گاڑی لے کر جاگنگ کے لیے نکلا اور گاڑی اس کے گھر سے کچھ فاصلہ پر پارک کی۔جیسے ہی وہ نکلی مینے اس کا تعاقب کیا۔اس نے گاڑی پارک کی اور پارک میں چلی گی۔لیکن میرے پاس اس پارک اور جم کی ممبرشپ نہیں تھی لہٰزا مجھے واپس لوٹنا پڑا۔مینے ارادہ کیا کل سے میں بھی اسی پارک اور جم کی ممبرشپ لوں گا۔ اگلے دن آفس سے چھٹی ہوئی تو ممبر شپ کے لیے گیا تو پتا چلا صبح نو بجے سے دن دو بجے تک آفس کھلا ہوتا ہے۔افسردہ سا چہرہ لے کر میں پھر اسی طرح اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اس کے گھر پاس رک گیا۔اگلے دن آفس کی بجائے سب سے پہلے پارک گیا۔ضروری ڈاکومنٹس فل کر کے پارک کی ممبر شپ لی اور آفس چلا گیا

انتظار کرنے لگا کب شام ہو گی کب پارک جاوںگا۔ یہ شائد پہلی دفعہ ایسا ہوا تھا کسی لڑکی پر اتنا دل ہار بیٹھا میں۔آفس سے گھر آیا اور سیم ٹائم پر پارک چلا گیا اس سے کچھ فاصلے پر مینے گاڑی پارک کی۔ اس نے دائیں طرف سے جاگنگ کا راؤنڈ شروع کیا اور مینے بائیں طرف سے۔ جب درمیان میں کراسنگ ہوئی تو اس نے اچانک دیکھا اور گزر گئ شائد وہ پہچان گئ تھی مجھے۔ اگلے چکر میں گزرتے گزرتے بولی کانٹوں پر پاوں رکھیں تو پاوں ہی زخمی ہوتا ہے۔جوابا مینے کہا ارادہ کر لوں تو آگ میں بھی کود جاتا ہوں۔اس کے بعد کافی دن ہو گئے وہ نظر نہیں آئی پودوں کا پانی بھی اب مالی دیتا تھا

میں روزانہ اسے سوچتا اور دن گزر جاتا تقریباً ایک ماہ بعد اسے صبح پھر پودوں کو پانی لگاتے دیکھا شام کو پارک میں جاگنگ کے لیے گیا تو وہ پاس آ کر رک گئ۔اور کچھ پیسے مانگے اس نے مینے بولا پرس گاڑی میں ہے جا کر دیتا ہوں گاڑی تک جاتے اس نے بتایا میرا نام مریم ہے تعارف وغیرہ کروانے کے بعد مینے اس پوچھا اتنے دن کہاں غائب تھی تو بولی بہن کے پاس چھٹیاں گزارنے اٹلی چلی گئ تھی۔ خیر اسے پیسے دئیے اور وہ چلی گئ۔ اس کے اس طرح پہلی دفعہ ہی پیسے مانگنے پر ذہن میں اس کی بات یاد آئی کانٹوں پر چلیں تو زخمی پاوں ہی ہوتے ہیں۔لیکن اس کے پاس اتنے مہنگے برانڈ کا پرس موبائل فون اتنی اچھی گاڑی اور وہ مجھ سے چند ہزار ہی کیوں مانگے گی! کچھ دن بعد پھر اسی طرح اس سے ملاقات ہوئی توپھر اس نے پیسے مانگے اور مینے دے دیے۔

ایک دن آ کر رکی اور بولی آج کھانا اکھٹے کھائیں گے۔ ایک ریسٹورینٹ کا بتا کر چلی گئ کہ آٹھ بجے ادھر آ جانا۔جاتے جاتے نمبر دے گئ اپنا۔مقررہ وقت پر وہ بھی پہنچ گئ کھانا کھایا بہت ساری باتیں کی۔ جاتے وقت وہ ایک پارسل دے گی اس وعدے کے ساتھ بولی گھر جا کر چیک کرنا۔گھر گیا تو اندر پیسے تھے جو مینے اسے دیے تھے ساتھ اس نے لکھا تھا مجھے ضرورت تو نہیں تھی بس جان بوجھ کر مینے لیے تھے۔وقت گزرتا گیا دوستی آہستہ آہستہ محبت میں تبدیل ہونے لگی۔ فون پر گھنٹوں باتیں مہینے میں ایک دو دفعہ ہم باہر ڈنر کرتے تھے۔اس طرح سال گزر گیا اور دسمبر کا مہینے شروع ہو چکا تھا۔ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔لیکن میری ماں نے میرا رشتہ بچپن میں ہی سونیا سے تہہ کر دیا۔سونیا کا لاسٹ سمیسٹر چل رہا تھا۔

سونیا کے گھر والوں نے پیغام بھی بھیجا کہ سونیا کی پڑھائی کمپلیٹ ہو رہی ہے ہم اب چاہتے ہیں آپ شادی کے لیے مناسب وقت بتا دیں تاکہ جلد از جلد یہ فرض ادا کریں۔ جس کا ذکر مینے مریم سے بلکل نہیں کیا تھا۔ایک دن مریم بولی رات کو ہمارے گھر آنا میرے امی ابو آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔رات کو مریم کے امی ابو سے ملا تو وہ بہت ہی اچھی طبیعت کے مالک تھے۔ ان کے ساتھ ڈنر کیا چائے پی انھوں نے بتایا میری تین بیٹیاں ہیں دو بیٹیاں کنیڈا میں ہوتی ہیں۔ مریم سب سے چھوٹی ہے۔مریم کی ماما نے بتایا ہے آپ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو۔آپ کسی دن اپنے گھر والوں کو ہمارے گھر ڈنر پر لے کر آو۔میں سمجھ گیا یہ رشتے کی بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں ڈرتا امی کے آگے افف بھی نہیں کرتا تھا۔ تو ان کو مریم کا کیسے بتاتا دوسری طرف سونیا کے گھر والوں نے بھی پیغام بھیجا تھا شادی کی ڈیٹ فکس کریں۔ میں اب عجیب سی کشمکش میں پڑھ گیا۔مینے انکل کو بولا ضرور اس کے ساتھ ہی جلدی سے اجازت چاہی۔مریم کا میسج آئے 20دسمبر کو ہم کنیڈا جا رہے ہیں آپ جلدی سے اپنے گھر والوں کو لے کر آو تاکہ رشتے کی بات ہو۔

مینے ڈرتے ڈرتے امی کو خوشگوار موڈ میں دیکھتے ہوے مریم کا تھوڑا سا تعارف کروایا پھر کیا تھا جیسے قیامت آ گئ ہو۔امی نے ابو کو بھی سب بتا دیا۔امی سے ہمیشہ ڈانٹ ہی پڑتی تھی لیکن ابو ہمیشہ پیار سے سمجھاتے تھے۔ابو کہتے بیٹا تمھارا رشتہ بچپن سے تہہ ہے اب ایسا ہونا نا ممکن ہے۔پورے خاندان میں ہماری ناک کٹ جائے گی۔خیر اگلے دن مینے ہمت کر کے مریم کو سب بتا دیا۔مریم کی آنکھوں سے مسلسل آنسو نکل رہے تھے۔تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے کیوں چھپایا یہ سب کیوں میری زندگی برباد کی۔تمھاری خاطر مینے امیر سے امیر گھرانوں کے رشتے بھی چھوڑے۔تمھیں اپنی پہلی اور آخری محبت سمجھا لیکن تم نے میرے سارے خواب ادھورے چھوڑ دیے۔بہت سمجھایا مینے مریم کو لیکن وہ جیسے پاگل ہو گئ تھی اونچی اونچی چیخیں مار رہی تھی ارد گرد سب لوگ تماشہ دیکھ رہے تھے۔وہ رات مینے جاگتے گزاری۔ پوری رات سوچتا رہا جب میری ماں نے میرا رشتہ بچپن میں تہہ کر دیا تھا تو مینے ایسا کیوں کیا۔اگلے دن دیکھا تو مریم کا نمبر مسلسل آف جا رہا تھا نا وہ جاگنگ کے لیے جا رہی تھی نا پودوں کا پانی دے رہی تھی۔میں ڈرتا اس کے گھر بھی نہیں جا رہا تھا۔

دو دن بعد بیس تاریخ کو اس نے اٹلی جانا تھا۔اچانک فون کی بل بجی فون اٹھایا تو مریم نے شام کو پارک میں ملنے کا بولا۔شام کو اس کے پاس گیا نا میک اپ نا اب وہ ہنسی اداس سا چہرہ مینے مریم کو بولا میری غلطی ہے مجھے معاف کر دو وہ روتے روتے میرے گلے لگ گئ اور بولی شائد میری قسمت میں ادھوری محبت تھی۔کہتی بہن کے پاس جاوں گی تو دل لگ جائے گا۔ اب شائد واپس پاکستان نا آوں تمھارے ماں باپ جیسے کہتے ہیں ویسے کرو جاو سونیا سے شادی کرو۔آج میری شادی کو چارل سال ہو گئے ہیں جب بھی دسمبر آتا ہے تو مریم کی طرف اسے پھولوں کا گلدستہ میرے آفس پہنچ جاتا ہے۔اسی طرح میں بھی مریم کو پھول اور ڈھیر ساری چاکلیٹ سونیا سے چھپ کر بھیج دیتا ہوں کیونکہ مریم کو چاکلیٹس بہت پسند تھی۔مریم نے ابھی تک شادی نہیں کی۔ جب بھی اسے شادی کا کہتا ہوں تو وہ آگے سے کہتی ہے میری قسمت میں ادھوری محبت تھی بس۔

میں اکثر سوچتا ہوں مینے ایسا کیوں کیا جب بچپن سے میرا رشتہ تہہ تھا۔لیکن آجکل معاشرے میں یہ عام ہو چکا ہے۔مجھ جیسے بہت سے لڑکے جن کے آلریڈی رشتے خاندان میں تہہ ہو چکے ہوتے ہیں۔ وہ بہت ساری لڑکیوں کی ایسے زندگی تباہ کر دیتے ہیں۔ وقتی دوستی یا ٹائم پاس یا چھوٹی محبت کی خاطر ہم کتنا بڑا دھوکہ دے جاتے ہیں۔بجائے ہم کسی سے جھوٹی دوستی یا محبت کریں محض ٹائم پاس کرنے کی خاطر۔ ہمیں چاہیے دوسرے کو سچ بتا دیں تاکہ ہماری وجہ سے کسی کی زندگی تباہ نا ہو۔لڑکیاں بہت معصوم ہوتی ہیں اور باتوں میں بھک جاتی ہیں۔

نوٹ: یہ ایک فرضی کہانی تھی جو بیٹھے بیٹھے لکھ دی مینے۔لیکن حقیقت میں اس طرح کی کہانیاں روز سننے کو ملتی ہیں۔

خوش رہیں مسکراتے رہیں۔

Standard

Quiz Compitition Gift

صحافی جویریہ صدیق جو کسی تعارف کی محتاج نہیں۔جو کبھی کبھی انتہائی آسان سا سوال پوچھتی ہیں اور سوال کا درست جواب دینے والوں کو گفٹ بھی ملتے ہیں۔ اس دفعہ بھی انھوں نے انتہائی آسان سا سوال پوچھا۔اور ساتھ منشن کیا جن پانچ درست جواب دینے والوں کے رپلائی کو زیادہ لائکس ملیں گئے ان کے لیے سرپرائز گفٹ ہو گا۔سوال یہ تھا۔پاکستان کے پہلے وزیراعظم کا نام (لیاقت علی خان)پاکستان کا نام کس نے تجویز کیا (چودھری رحمت علی )پاکستان کے قومی ترانے کی دھن کس نے ترتیب دی ( احمد غلام علی جی چھاگلہ )بس پھر کیا سوال پوچھنے کی دیر تھی اور بہت سارے فالورز نے درست جواب دئیے۔ اور زیادہ سے زیادہ لائکس کی دوڑ میں شامل ہو گئے کیونکہ سرپرائز گفٹ پانچ تھے جو جیتنے والے پانچ خوش نصیبوں کو ملنے تھے۔جیتنے والے ممبرز کا اعلان چوبیس گھنٹے بعد تھا۔جب بہت سارے رپلائز آنے کا سلسلہ شروع ہوا تو سرپرائز گفٹ کی تعداد پانچ سے آٹھ پھر آٹھ سے دس ہو گئ۔لائکس کی دوڑ میں کوئی آگے کوئی پیچھے بہت ہی دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئ تھی۔ اور جن فالورز کو لائکس کم مل رہے تھے انھوں ریکویسٹ کرنا شروع کردی کہ ہمیں بھی گفٹ دیا جائے۔پانچ فالورز کو سرپرائز گفٹس دینے والا سلسلہ پندرہ فالورز پر چلا گیا۔فائنل اعلان میں جب چند گھنٹے رہ گئے تو لائکس کی اتنی دلچسپ صورتحال تھی جیسے پاکستان کی سٹاک ایکسچینج کبھی اوپر اور کبھی نیچے جاتی ہے۔ میں تو پہلے پانچ کی دوڑ سے تقریباً آوٹ ہو گیا تھا۔آخرکار صحافی جویریہ صدیق نے اپنے یوٹیوب چینل https://www.youtube.com/user/javeriasiddique سے جیتنے والوں کا اعلان کر دیا۔پھر جا کر کہیں سکون ہوا سب کو۔اس کے بعد سب کو انتظار تھا کیا گفٹ ہو گا کب ملے گا۔ آخرکار کچھ فالورز کو بدھ والے دن اور کچھ کو جمعہ والے دن گفٹس ملے۔ ان سب نے صحافی جویریہ صدیق کو بہت ساری دعائیں دی اور شکریہ ادا کیا۔ مینے بھی مکہ اور مدینہ میں دعاوں میں یاد رکھا۔جس کے ساتھ بہت ساری دعائیں ہوں کامیابی ہمیشہ اس کو مقدر بنتی ہے۔صحافی جویریہ صدیق اپنے فالورز کے ساتھ بہت مہربان رہتی ہیں۔ان کی کوشش ہوتی ہے سب کو رپلائی کیا جائے۔ اور فالورز کو انتظار رہتا ہے ہمیں بھی رپلائی کریں سالگرہ وِش کریں۔اس سے سب فالورز خوش ہو جاتے ہیں۔مجھے صحافی جویریہ صدیق کو فالو کرتے چار سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ان چار سالوں میں صحافی جویریہ صدیق کو پاکستان کا بہتر امیج اجاگر کرتے ہیں دیکھا ہے۔ڈیم فنڈ مہم کی بات ہو یا سر سبز پاکستان کی یا کوئی بھی ایسی مہم ہو جس کا فائدہ پاکستان کو ہو تو صحافی جویریہ صدیق ہمیشہ سرفہرست رہتی ہیں۔چند ایک گندے انڈے بعض اوقات مخالفت بھی کرتے ہیں۔جو پاکستان کا لبادہ اوڑھے ہمیشہ ہر اس مہم میں شامل ہوتے ہیں جہاں پاکستان کے خلاف بات ہو۔ جی جناب میں ”دیسی لبرلز” کی بات کر رہا ہوں۔لیکن صحافی جویریہ صدیق کو ان لوگوں کی بلکل پرواہ نہیں وہ نا تو اپنے مشن سے کبھی پیچھے ہٹی ہیں اور نا کبھی ہٹ سکیں گی۔وہ ہمیشہ پاکستان کی بات کرتی ہیں اور کرتی رہیں گی۔

صحافی جویریہ صدیق سے سب فالورز کی ریکویسٹ ہے اگلی دفعہ #Quiz_Compitition_Gift میں سرپرائز گفٹس کے ساتھ ہمیں کو آٹوگراف بھی دیں۔ ہمیشہ اسی طرح خوش رہیں مسکراتی ہیں اللہ تعالی آپ کے دل کی ہر دعا قبول کرے آمین۔۔ اللہ حافظ

آخر پر جیتنے والے ممبرز کے گفٹس اور ان کے کمنٹ 😇

Standard

پودے لگائیں پاکستان محفوظ بنائیں

پاکستان میں ہر سال گرمی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ماحولیاتی آلودگی بڑتی جا رہی ہے۔اور آکسیجن کی کمی بھی ہو رہی ہے ۔جس کی مین وجہ درختوں کا انتہائی کم ہونا ہے۔درخت ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔گرمی کی شدت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔پاکستان میں گرمی کی شدت میں اضافہ درختوں کاانتہائی کم ہونے کی وجہ سے ہے۔ پودے نا لگا کر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو غیر محفوظ کر رہے ہیں۔کچھ عرصہ قبل پاکستان کے کیپیٹل سٹی اسلام آباد میں سی ڈی اے نے بہت سارے درختوں کو کاٹا جس پر صحافی جویریہ صدیق اور دیگر لوگوں نے آواز اٹھائی۔ سی ڈی اے کا کہنا تھا یہ درخت سیکورٹی ایشو میں رکاوٹ ہیں۔اس لیے ان کو کاٹا گیا۔اسلام آباد کا یہ حال ہے تو باقی شہروں کا کیا حال ہو گا۔میں جب چھوٹا تھا تو اپنے گاوں چھٹیاں گزارنے جاتا تھا راستے میں نہر آتی تھی جہاں بہت سارے درخت تھے۔اور آج نہر کے دونوں کنارے خالی ہیں۔ایسے لگتا جیسے یہاں کبھی درخت ہی نہیں تھے۔ گاوں کے لوگ وہاں سرکاری ڈیوٹی پر جو گارڈ ہے اس کو چند پیسے دے کر رات کو درخت کاٹ لیتے۔اور لکڑی کو جلانے کے کیے استعمال کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جویریہ صدیق جو کس تعارف کی محتاج نہیں انھوں نے پودے لگانے کے حوالہ سے آواز اٹھائی (آجکل وہ ڈیم بناؤ پاکستان کی مہم کا حصہ ہیں) جو آج پورے پاکستان کی آواز بن گئ ہے۔ جویریہ صدیق جنھوں نے مختلف ہیش ٹیگ سے اس مہم کا آغاز کیا (#یوم_شجرکاری #درخت_لگاو_پاکستان #سرسبزو_شاداب_پاکستان #یوم_شجرکاری ) ااس کے علاوہ جویریہ صدیق نے پودوں کے حوالہ سے اپنے فالورز اور فینز کے لیے فیس بک یوٹیوب اور ٹوئیٹر پر #PlantATreeChallengePK کے ہیش ٹیگ کے ساتھ چیلنج دیا۔ اور ساتھ پودوں کے حوالہ سے کافی معلومات بھی شئیر کیں۔جویریہ صدیق کہتی ہیں پودے لگائیں اور آنے والی نسلوں کو محفوظ بنائیں پودے لگانا صدقہ جاریہ ہے جتنے زیادہ پودے اتنی کم آلودگی۔جویریہ صدیق جو کہ کافی عرصہ سے پودوں کی کمپین کر رہی ہیں۔ انھوں نے یوٹیوب وڈیو پیغام میں مجھے بھی #PlantATreeChallengePK میں شامل کیا۔ جو میرے لیے انتہائی خوشی کا باعث ہے۔سب سے پہلے انھوں نے خود مورنگا کا پودا لگا کر اس چیلنج کا آغاز کیا۔اب یہ چیلنج پورے پاکستان کا حصہ بن گیا ہے۔ جن میں پاکستان گورنمنٹ پاکستان آرمی صحافی تنظیمیں کالج یونیوریسٹیاں کے سٹوڈینٹ اور بھی دیگر تنظیمیں اس مہم کا حصہ بن گئ ہیں۔ میں آجکل نیا گھر بنا رہا ہوں۔ اور مینے پہلے چھوٹا سا لان رکھا تھا۔ لیکن جویریہ کے #PlantATreeChallengePk کو Accept کرتے ہوے مینے گھر کا نقشہ چینج کیا ہے اور لان کو کافی بڑا کر دیا۔ آپ سب بھی اپنے گھروں میں پودے لگائیں۔ اگر ہر گھر میں ایک پودا بھی لگ جائے تو کڑوڑوں پودے لگ سکتے ہیں۔ جس سے ماحولیاتی آلودگی ختم ہو گی۔ گرمی کی شدت میں کمی ہو گی۔جس سے بہت ساری بیماریوں سے انسان محفوظ رہے گا۔ اپنی آنے والی نسلوں کا سوچیں اور آئیں مل کر پودے لگائیں اور پاکستان کو سر سبزوشاداب پاکستان بنایں اللہ تعالی پاکستان کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے۔ہمیشہ خوش رہیں اور دوسروں میں خوشیاں بانٹیں۔اللہ حافظhttps://www.youtube.com/user/javeriasiddique @javerias Twitter

Standard

سانحہ اے پی ایس پر پہلی کتاب

سولہ دسمبر کا سانحہ ذہن میں آتے ہی دماغ گہری سوچوں میں چلا جاتا ہے ایسا کیوں ہوا کاش ایسا نا ہوتا۔

سولہ دسمبر کی نیوز نا صرف پاکستان میں بلکے پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔

اس واقعہ کے بعد مصنفہ جویریہ صدیق نے سانحہ اے پی ایس پر پہلی کتاب آرمی پبلک سکول شہداء کی یادداشتیں لکھی۔

میڈیا سے لے کر حکومتی ایوانوں تک سوشل میڈیا اور سول سوسائٹی سے لے کر ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے بک کو بہت پسند کیا۔خاص کر شہداء کے لواحقین نے اس بک کو بہت پسند کیا اور بہت اچھا فیڈ بیک دیا۔

کچھ سوشل میڈیا کا تنخواہ دار طبقہ جن کا کام تنقید برائے تنقید کرنا ہوتا ہے۔انھوں نے بک پڑھے بغیر بک پر تنقید کی

مجھے بھی تجسس ہوا آخر تنقید کیوں !

کیا اس کتاب میں وفاقی یا صوبائی گورنمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے تو مینے بھی آن لائن بک خریدی اور اس کا مطالعہ کیا۔بک کو پڑھ کر اندازہ ہوا اس میں صرف شہداء کے خاندانوں کا ذکر کیا گیا تھا۔اس بک میں شہداء اور ان کے خاندان کے متعلق مکمل تفصیل موجود ہے۔

اس بک کو پڑھ کر شہداء کے خاندانوں کی ہمت اور حوصلے کو دیکھا جاسکتا ہے

میں جب بھی اس کتاب کو پڑھتا ہوں تو میری ہمت جواب دے جاتی ہے

بک کو پڑھ کر بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس بک کو لکھنا اتنا آسان نہیں تھا۔ہر ایک شہید کے خاندان سے ملنا۔معلومات اکھٹی کرنا ان کے دکھ درد کو سننا کسی تکلیف سے کم نہیں تھا۔

میرے دوست احباب اور رشتہ داروں میں جس جس نے بھی اس بک کو پڑھا ان سب نے جویریہ صدیق کی ہمت اور حوصلہ کو داد دی اور بک کو بہت پسند کیا۔

شہداء کے خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں اور اس سانحہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ان کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ کوئی ایسی یادگار بنائی جائے جس میں ان تمام شہداء کے نام ہوں

کسی بھی ملک میں کوئی بھی اس طرح کا سانحہ ہو اس کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور اس طرح کے واقعات سے بچاو کے لیے ریاست کو اقدامات کرنے ہوتے ہیں۔ اس بک میں شہداء کے 147 خاندانوں کا ذکر کیا گیا تھا

جس میں 122 بچے پاکستان آرمی کے 3 اہلکار 10 اسٹاف ممبران اور 12 اساتذہ شہید ہوے تھے۔ان میں زیادہ تعداد سوئلین کی تھی ۔

جویریہ صدیق جو اس کتاب کی مصنفہ ہیں وہ 2007 سے صحافت سے وابسطہ ہیں انھوں نے ماس کمیونیکیشن میں ایم ایسی سی کی ہے۔

جویریہ صدیق بچوں کے رسالوں کے لیے بھی کہانیاں اور مضامین بھی لکھتی رہی ہیں۔ انھوں نے پہلی کتاب کاوش اصلاح لکھی جو کہ بچوں کی کہانیوں پر مشتعمل ہے۔یہ بک نیشنل بک فاونڈیشن میں چلڈرن فیسٹیول کا حصہ بھی بنی۔

جویریہ صدیق کو بہت سارے ایوارڈ بھی ملے ہیں جویریہ صدیق اس وقت پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں اس کے علاوہ ترکش ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ساتھ کام کر رہی ہیں پاکستان ڈائری میں آپ جویریہ صدیق کو سنتے بھی ہیں

شہداء کے متعلق مزید انفارمیشن کے لیے آپ

http://www.javeriasiddique.com

لنک کو فالو کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ جویریہ صدیق کو ‏⁦‏⁦

‏⁦‪youtu.be/7kwlRfpcfGU

پر فالو کر سکتے ہیں۔

اللہ تعالی پاکستان کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے آمین

Standard

           《جہیز ایک لعنت 》

نبی پاک نے فرمایا نکاح کے لیے جو معیار  ہے وہ دین ہے.آجکل جگہ جگہ ایسی باتیں سننے کو ملتی ہیں.کہ فلاں کی بیٹی کی شادی اس شرط پر رکھی گئ ہے کہ ہمیں جہیز پہ یہ چیزیں چاہیں. ہم اتنے لوگوں کی بارات لے کر آئیں گئے.جس وجہ سے ایک باپ کے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے اپنی بیٹی کو رخصت کرنا.

جہیز پر اسلام میں سخت پابندی ہے اور اسلام میں بھی مالی ذمہ داری شوہر پر عائد ہوتی ہے.جیسا کہ حق مہر شوہر کو ادا کرنا ہوتا. اللہ کے نبی نے فرمایا سب سے بہتر نکاح وہ ہے جس سے کم سے کم خرچ ہو.جہیز ایک ایسی لعنت ہے جسے پورا معاشرہ اس وقت برداشت کر رہا  ہے.

ہم لوگوں کو اندازہ نہیں ہے جس باپ کی جوان بیٹیاں ہیں آج کے دور میں وہ کتنی مشکل میں زندگی گزار رہا ہے.اگر اچھے رشتے مل جائیں تو بیٹے والوں کے نخرے آسمان کو چھو رہے ہوتے.کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جو اپنی بیٹی کو کسی شھزادی سے کم نہیں سمجھتے. اور دوسرے کی بیٹیوں کو لونڈیوں کی طرح سمجھتے ہیں.بات بات پر طعنے دیتے ہیں فلاں کے بیٹے کی شادی تھی ان کے جہیز میں اتنا کچھ آیا.تم نے ہمارے خاندان کی ناک کٹوا دی.دیکھا جائے تو بہت ساری طلاقیں بھی جہیز کی لڑائی کی وجہ سے ہو رہی ہیں.اس وقت صورتحال یہ ہے جہیز نا ملنے کی وجہ سے غریب کی بیٹی کا رشتہ کوئی قبول نہیں کرتا. اور اگر کوئی سرمایہ دار کسی غریب کی بیٹی کی شادی کی ذمہ دار قبول کر بھی لے تو پورے علاقے میں خبر پھیل جاتی ہے  فلاں کی بیٹی کی شادی ہے ان کے پاس جیز کے پیسے نہیں تھے.ایسی شادیوں کو نمائیش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے. اور غریب کی غربت کا تماشہ بنایا جاتا ہے

اگر کوئی سرمایہ دار ایسا کرنا چاہے تو اس پر فرض ہے چپ کر کے غریب خاندان کی مدد کر دے تاکہ اس غریب خاندان کی جگ ہنسائی نا ہو اور وہ خوشی خوشی اپنی بیٹی کو رخصت کر سکے

حدیث میں ہے جس شخص نے تنہائی میں خیرات کی دائیں ہاتھ سے دیا اور بائیں کو پتا بھی نا چلا قیامت کے دن اللہ تعالی اسے اپنے عرش کا ٹھنڈا سایہ عطا کرے گا.

اس لیے بہتر ہے اگر ہم اجتماعی شادیوں کے ماحول کو اس طرح تبدیل کریں کہ غریب کی عزت نفس مجروح نا ہو. اللہ تعالی سب کو ایسی توفیق نصیب فرمائے.ہم سب کو متحد ہونا ہو گا اور سنجیدگی سے سوچنا ہو گا  جہیز جیسی لعنت کو ختم کرنا ہو گا.تا کہ غریب انسان عزت سے اپنی بیٹی بیاہ سکے.خاندان میں یا علاقے میں اس کو طرح طرح کی باتیں نا سننی پڑیں.
اللہ تعالی سب کو اپنے امان میں  رکھے آمین

ہمیشہ خوش رہیں اور دوسروں میں خوشیاں بانٹیں .

اللہ حافظ

Standard

قونصلیٹ جنرل آف پاکستان جدہ(سعودیہ

پاکستان قونصلیٹ آفس جدہ میں روزانہ تقریبا 1000 سے زیادہ لوگ پاسپورٹ رینیو  کے لیے آتے ہیں یا اس سے زائد 

دوسرے شہروں سے آنے والے لوگ صبح 3 بجے آفس کے باہر اکھٹا ہونا شروع ہو جاتے ہیں.  تاکہ صبح 8 بجے آفس کھلے اور جلدی نمبر آ جائے

پاسپورٹ رینیو کے لیے اقامہ کی فوٹو کاپی پاپسورٹ  اور ویزہ کی فوٹو کاپی اور اصلی شناختی کارڈ کی فوٹو  کاپی درکار ہوتی ہے.

ان سب ڈاکومنٹس کو آفس کے باہر ہی چیک کیا جاتا ہے اور فیس جمع کروانے کے لیے نمبر دیا جاتا ہے.

باہر لوگوں کی کافی تعداد صبح 3 بجے سے انتظار میں کھڑی ہوتی ہے.باہر صفائی کے انتہائی نا مناسب انتظامات ہیں .صبح سورج طلوع ہوتے ہی گرمی کی شدت میں اضامہ ہونا شروع ہو جاتا ہے. لوگوں کو باہر کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے. باہر بہت سارے پنکھے بند ہیں یا شائد خراب ہیں.

  صبح 9 بجے کی صورتحال  اور پنکھوں کا حال

صفائی کی صورتحال 

ڈاکومنٹس چیک کروانے کے بعد فیس جمع کروانا ہوتی ہے

پانچ سال ارجینٹ فیس 15 دن 225 ریال

پانچ سال نارمل فیس 30 دن 135 ریال

دس سال ارجینٹ فیس 15 دن 400 ریال

دس سال نارمل فیس 30 دن 240  ریال

فیس جمع کروانے کے بعد آپ کو  تصویر بنوانا ہوتی ہے.اس کے بعد ٹوکن ایشیو ہوتا ہے

قونصلیٹ کی عمارت چھوٹی ہونے کی وجہ سے اندر کافی رش ہوتا ہے جس سے کافی حبس ہو جاتا ہے 

بہت سارے لوگ تصویر اور ٹوکن کے انتظار میں اندر  زمین پر بیٹھے ہوتے یا کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں 

خواتین کے لیے بھی الگ کاونٹر کی سہولت موجود نہیں ہے

اس مرحلہ سے گزرنے کے بعد فنگرپرنٹس ہوتے

 پھر ڈیٹا انٹری ہوتی ہے  دیٹا انٹری حال میں بھی  جگہ انتہائی کم ہے .

ڈیٹا انٹری حال👆
اس کے بعد آخری مرحلہ فارم جمع کروانے کا ہوتا ہے . 

پاکستان قونصلیٹ کی عمارت چھوٹی ہونے کی وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے دور دراز سے آئے ہوئے لوگوں کو جب مناسب سہولیات نہیں ملتی تو ان میں کافی غصہ پایا جاتا ہے. 

روزانہ سیکنڑوں کی تعداد میں لوگ فیس جمع کرواتے ہیں 

گورنمنٹ آف پاکستان کو چاہیے عمارت کی توسیع کرے یا متبادل عمارت کا بندوبست کرے.لوگوں کے مسائل فوری طور پر حل کئے جائیں.بیٹھنے کے لیے مناسب سہولیات دی جائیں.پانی پینے کے لیے واٹر فلٹریشن پلانٹ لگایا جائے.خواتین کے لیے الگ کاونٹر بنایا جائے.عمارت کے باہر صفائی کے مناسب انتظامات کئے جائیں.گرمی سے بچاو کے لیے بھی مزید انتظامات ہوں.تاکہ لوگوں کو پریشانی کا سامنا نا کرنا پڑے.:)

ہمیشہ خوش رہیں اور دوسروں مین خوشیاں بانٹیں

اللہ حافظ

Twitter @Ranabasit53

Standard

ماں اور باپ

‏میں اپنی تمام سانسیں…. ان پالنے والوں کے نام کرتا ہوں,,,

وہ ماں اور باپ
کہ جنہوں نے دن رات ایک کر کے پڑھایا ہے مجھے
صاف یونیفارم میں اسکول بھیجا تھا مجھے
دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ کہنے, سمجھنے کا سلیقہ سکھایا تھا مجھے
تو آج
جن والدین کے بچے شہید ہوئے ہیں
انہیں سلام پیش کرنے کو جی چاہتا ہے,,,,

میں جب کسی کا جگر گوشہ خون میں لپٹا دیکھتا ہوں
تو ڈھے سا جاتا ہوں
اور سوچتا ہوں
کہ
دشمن کے بچوں کو کیونکر پڑھایا ھم نے
کب تک یونہی چلتا رہے گا
اب تو برداشت بھی نہیں ہے
کب تک یہ قیمتی خون اپنے دیس کے نام کرتے رہیں گے
اور اب
ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں
کہ جب ھمارے پیارے وطن میں سکون اور امن ہوگا,
بھائی چارے کی فضا قائم ہو گی.
خوشحالی ہوگی
ہریالی  ہوگی
دشمن کو نیست و نابود کر دیں گے ان شاءاللہ
اے میرے مالک!!!
تو کرم کر دے ،
ھمارے پیارے وطن پاکستان کی حفاظت فرما….
یہ ہے
تو ھم ہیں…..
باسط حبیب
اللہ پاک سب کو خوش رکھے
آمین

Standard

کفن میں لپٹی لاش

ایک دن آئیگا
کفن میں لپٹی ہو گی لاش میری
چاروں طرف اپنے ہوں گئے.
سب کو سن سکوں گا
پر بول نا پاوں گا.
کچھ لوگ سسک رہے ہوں گئے
کچھ میرے جانے کی تیاری میں مصروف ہوں گئے.
کچھ لمحوں بعد اک شور سا برپا ہو گا
کچھ دیر بعد قبر میں اتارا جاوں گا
اندر گھپ اندھیرا ہو گا
اپنے سب چھوڑ کے چلے جائیں گئے.
پھر فرشتے سوال کریں گئے.
کیا پایا ہے کیا کھویا ہے
نا جانے کیا ہو گا اس دن
اللہ کا حکم ہے اس دن سے ڈرو آخرت کا سامان کرو
موت سے پہلے موت کی تیاری کرو.
اللہ ہم سب کو نیک بنائے تاکہ آخرت سنور جائے.
آمین ثم آمین

Standard

ماں

‏ماں محبتوں کی شاہکار ہے لوگو
کبھی اس کی قربانی دہرا کے تو دیکھو
ماں شفقتوں کی انگنت بہار ہے
کبھی اس کی مہربانیاں گن کے تو دیکھاو
‏ماں مدتوں سے سوئی نہیں تیرے لیے
کبھی اس کی آنکھوں کو پڑھ کے تو دیکھو
کر سکو گئے نا حق ماں کا تم ادا
کبھی گیلے بستر پے سو کے تو دیکھو
‏جان جاو گئے ماں کی عظمت تم باسط
کبھی خود کو اس کی جگہ پے لے جا کے تو دیکھو.
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸

Standard